لوڈ ہو رہا ہے...
Logo

دارالافتاء جامعہ اسلامیہ خلفاء راشدین

دینی مسائل کے شرعی حل کے لیے ہمارے ساتھ رابطہ کیجیے

ہمارے علماء کرام آپ کے سوالات کے جوابات فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں

سوال پوچھیے

تازہ فتاویٰ

نمبر: 32-001

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ حماد کی پینٹ وغیرہ کی دکان ہے، قاسم ان کا جاننے والا ہے، وہ ان کی دکان پر بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کچھ پینٹ وغیرہ خریدنا چاہا، حماد کی دکان پر گاہک کی مطلوبہ پینٹ کی ایک بالٹی موجود نہیں تھی، تو اس نے قاسم سے کہا کہ مجھے موٹرسائیکل کی چابی دے دیں، میں قریب سے بالٹی اٹھالاتا ہوں، حماد جب بالٹی لے کر واپس آیا تو گاہک نے اسے کہا کہ مجھے موٹر سائیکل کی چابی دے دیں میں نے ایک کاریگر کو لے کرآنا ہے، تاکہ وہ سامان دیکھ لے، حماد کے بقول اس نے قاسم کی طرف دیکھا کہ چابی دے یا نہ دے؟تو قاسم نے کہا چابی دے دو، جب گاہک موٹرسائیکل لےکر چلا گیا، تو حماد نے قاسم سے پوچھا کہ آپ نے اس آدمی کو چابی دلوائی ہے، کیا آپ اسے جانتے ہیں؟یہ کون ہے؟ تو قاسم بولا گاہک نے مجھے بتایا تھا کہ وہ آپ کا مستقل گاہک ہے، فلاں عالم کا نواسہ ہے، اور یہ کہ قریب ہی ایک کاریگر موجود ہے، جسے وہ یہ سامان دکھانا چاہتا ہے، اس لئے اسے لینے گیا ہے اور ابھی واپس آجاتا ہے، جب کافی دیر گزر گئی اور گاہک واپس نہ آیا تو پتہ چلا کہ وہ تو فراڈیا تھا، جو موٹر سائیکل اڑا لے گیا ہے۔جبکہ اس سارے واقعے میں قاسم کا موقف یہ ہے کہ حماد نے جب گاہک کو چابی دی تھی تو مجھ سے نہیں پوچھا تھا، اور میری اجازت کے بغیر میراموٹرسائیکل اس کے حوالے کیا تھا، چونکہ اس نے یہ نقصان کیا ہے اس لئے وہ مجھے موٹرسائیکل کی قیمت ادا کرے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ درج بالا واقعے میں شرعاً نقصان کا ذمہ دار کون ہےحماد یا قاسم؟یہ نقصان حماد پورا کرے گا یا قاسم کو برداشت کرنا ہوگا؟

<p><span style="color: rgb(0, 0, 0);">کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ حماد کی پینٹ وغیرہ کی دکان ہے، قاسم ان کا جاننے والا ہے، وہ ان کی دکان پر بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کچھ پینٹ وغیرہ خریدنا چاہا، حماد کی دکان پر گاہک کی مطلوبہ پینٹ کی ایک بالٹی موجود نہیں تھی، تو اس نے قاسم سے کہا کہ مجھے موٹرسائیکل کی چابی دے دیں، میں قریب سے بالٹی اٹھالاتا ہوں، حماد جب بالٹی لے کر واپس آیا تو گاہک نے اسے کہا کہ مجھے موٹر سائیکل کی چابی دے دیں میں نے ایک کاریگر کو لے کرآنا ہے، تاکہ وہ سامان دیکھ لے، حماد کے بقول اس نے قاسم کی طرف دیکھا کہ چابی دے یا نہ دے؟تو قاسم نے کہا چابی دے دو، جب گاہک موٹرسائیکل لےکر چلا گیا، تو حماد نے قاسم سے پوچھا کہ آپ نے اس آدمی کو چابی دلوائی ہے، کیا آپ اسے جانتے ہیں؟یہ کون ہے؟ تو قاسم بولا گاہک نے مجھے بتایا تھا کہ وہ آپ کا مستقل گاہک ہے، فلاں عالم کا نواسہ ہے، اور یہ کہ قریب ہی ایک کاریگر موجود ہے، جسے وہ یہ سامان دکھانا چاہتا ہے، اس لئے اسے لینے گیا ہے اور ابھی واپس آجاتا ہے، جب کافی دیر گزر گئی اور گاہک واپس نہ آیا تو پتہ چلا کہ وہ تو فراڈیا تھا، جو موٹر سائیکل اڑا لے گیا ہے۔جبکہ اس سارے واقعے میں قاسم کا موقف یہ ہے کہ حماد نے جب گاہک کو چابی دی تھی تو مجھ سے نہیں پوچھا تھا، اور میری اجازت کے بغیر میراموٹرسائیکل اس کے حوالے کیا تھا، چونکہ اس نے یہ نقصان کیا ہے اس لئے وہ مجھے موٹرسائیکل کی قیمت ادا کرے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ درج بالا واقعے میں شرعاً نقصان کا ذمہ دار کون ہےحماد یا قاسم؟یہ نقصان حماد پورا کرے گا یا قاسم کو برداشت کرنا ہوگا؟</span></p>

الدعویٰ
24/8/2026

کتابیں

شماریات

5

تحریری فتویٰ

3

بذریعہ فون

7

بالمشافہ

0

ویڈیو مسائل

19

بذریعہ ویب سائٹ

Logo

جامعہ اسلامیہ خلفاء راشدین

آفیشل موبائل ایپلیکیشن